میں نے اپنے شوھر سے خلع لی جو کہ اک مولانا صاحب نے ٹیلیفون پر ھی کروا دی۔ میرے شوہر نہیں چاہتے تھے کہ میں خلع لوں۔انھوں نے مجھ سے دوبارہ خاوند والا رشتہ قائم کر لیا ۔ اور یہ بولا کہ چونکہ تم نے غصے اور غم کی وجہ سے خلع لی تھی اور اب تم مجھ سے ناراض نہیں ہو تو ھم اس خلع کو اپنی مرضی سے منسوخ کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔اور دوبارہ رجوع کرنے میں ہم پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔کیا میری طلاق ھو گئی تھی اسوقت یا منسوخ ھو گئی تھی ۔مجھے اس بات پر شک ہے کہ وہ منسوخ ھو گئی تھی کہ ۔نہیں کیوں کہ میں اپنے شوہر کو طلاق دینا چاھتی تھی لیکن انہوں نے مجھ سے اسی رات دوبارہ زبردستی رشتہ ازدواج قائم کر کے بولا کہ ھم دونوں کا نکاح اس طرح فون پر خلع کے ضیغے پڑھنے سے نہیں ختم ہوا اور ھم ابھی میاں بیوی ہی ہیں ۔میں اس بات سے متفق نہیں ھوں کیونکہ اس خلع میں میرا ارادہ شاملِ تھا اور میں اب بھی اس سے طلاق لینا چاھتی ھوں ۔لیکن وہ بولتے ہیں کہ تم خود خلع کی درخواست دو۔میں تم کوطلاق نہیں دوں گا۔ آپ سے یہ پوچھنا ہے 1 کیا میرا پہلا خلع منسوخ ھو گیا تھا ؟2 اگر نہیں ھوا تو مجھے اپنے شوھر کےساتھ دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا کفارہ ادا کرنا ہو گا ؟3 اور وہ کفارہ کیا ہو گا ؟4 اوراب مجھے دوبارہ خلع لینی پڑے گی یا ہو چکی تھی ۔؟شکریہ ۔
Khula means, the wife buys her divorce from the husband. In other words a wife must pay or give up her Mehr to the husband so he can issue the decree of divorce, with at least two witnesses. So your khula has not happened properly, and you are still the wife of your husband.